ہے عجیب شہر کی زندگی نہ سفر رہا نہ قیام ہے

بشیر بدر

ہے عجیب شہر کی زندگی نہ سفر رہا نہ قیام ہے

بشیر بدر

MORE BY بشیر بدر

    ہے عجیب شہر کی زندگی نہ سفر رہا نہ قیام ہے

    کہیں کاروبار سی دوپہر کہیں بد مزاج سی شام ہے

    یونہی روز ملنے کی آرزو بڑی رکھ رکھاؤ کی گفتگو

    یہ شرافتیں نہیں بے غرض اسے آپ سے کوئی کام ہے

    کہاں اب دعاؤں کی برکتیں وہ نصیحتیں وہ ہدایتیں

    یہ مطالبوں کا خلوص ہے یہ ضرورتوں کا سلام ہے

    وہ دلوں میں آگ لگائے گا میں دلوں کی آگ بجھاؤں گا

    اسے اپنے کام سے کام ہے مجھے اپنے کام سے کام ہے

    نہ اداس ہو نہ ملال کر کسی بات کا نہ خیال کر

    کئی سال بعد ملے ہیں ہم ترے نام آج کی شام ہے

    کوئی نغمہ دھوپ کے گاؤں سا کوئی نغمہ شام کی چھاؤں سا

    ذرا ان پرندوں سے پوچھنا یہ کلام کس کا کلام ہے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    صائمہ

    صائمہ

    RECITATIONS

    ظفر اقبال

    ظفر اقبال

    ظفر اقبال

    ہے عجیب شہر کی زندگی نہ سفر رہا نہ قیام ہے ظفر اقبال

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY