ہے بہت اندھیار اب سورج نکلنا چاہیے

گوپال داس نیرج

ہے بہت اندھیار اب سورج نکلنا چاہیے

گوپال داس نیرج

MORE BY گوپال داس نیرج

    ہے بہت اندھیار اب سورج نکلنا چاہیے

    جس طرح سے بھی ہو یہ موسم بدلنا چاہیے

    روز جو چہرے بدلتے ہیں لباسوں کی طرح

    اب جنازہ زور سے ان کا نکلنا چاہیے

    اب بھی کچھ لوگو نے بیچی ہے نہ اپنی آتما

    یہ پتن کا سلسلہ کچھ اور چلنا چاہیے

    پھول بن کر جو جیا ہے وہ یہاں مسلا گیا

    زیست کو فولاد کے سانچے میں ڈھلنا چاہیے

    چھینتا ہو جب تمہارا حق کوئی اوس وقت تو

    آنکھ سے آنسو نہیں شعلہ نکلنا چاہیے

    دل جواں سپنے جواں موسم جواں شب بھی جواں

    تجھ کو مجھ سے اس سمے سونے میں ملنا چاہیے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY