ہے دل سوزاں میں طور اس کی تجلی گاہ کا

امام بخش ناسخ

ہے دل سوزاں میں طور اس کی تجلی گاہ کا

امام بخش ناسخ

MORE BYامام بخش ناسخ

    ہے دل سوزاں میں طور اس کی تجلی گاہ کا

    روئے آتش ناک ہر شعلہ ہے میری آہ کا

    وصل کیا ہم خاکساروں کو ہو اس دل خواہ کا

    خاک میں آلودہ ہونا کب ہے ممکن ماہ کا

    نور افشاں جب سے ہے دل میں خیال اس ماہ کا

    طور کا شعلہ دھواں ہے میری شمع آہ کا

    قامت موزوں نظر آئے مجھے جائے الف

    تھا شروع عاشقی دن میری بسم اللہ کا

    سمجھے میکش دیکھ کر ابرو تری بالائے چشم

    مے کدے سے مرتبہ اعلیٰ ہے بیت اللہ کا

    آمد خط میں تو ہونے دے نگاہوں کا گزر

    دیکھ لے بچنے نہیں پاتا ہے سبزہ راہ کا

    خلق نے قرآن دیکھا جب ہوا ماہ رجب

    ہم نے دیکھا مصحف رخسار اپنے ماہ کا

    آتے ہی اس طفل کے روشن سیہ خانہ ہوا

    شمع ساں جلوہ ہے اس کے قامت کوتاہ کا

    یار کا ناسخؔ پھٹا ہے پیرہن تو عیب کیا

    ہے کتاں کو چاک کرنا کام نور ماہ کا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY