ہے دل میں غبار اس کے گھر اپنا نہ کریں گے

مومن خاں مومن

ہے دل میں غبار اس کے گھر اپنا نہ کریں گے

مومن خاں مومن

MORE BYمومن خاں مومن

    ہے دل میں غبار اس کے گھر اپنا نہ کریں گے

    ہم خاک میں ملنے کی تمنا نہ کریں گے

    کیونکر یہ کہیں منت اعدا نہ کریں گے

    کیا کیا نہ کیا عشق میں کیا کیا نہ کریں گے

    ہنس ہنس کے وہ مجھ سے ہی مرے قتل کی باتیں

    اس طرح سے کرتے ہیں کہ گویا نہ کریں گے

    کیا نامے میں لکھوں دل وابستہ کا احوال

    معلوم ہے پہلے ہی کہ وہ وا نہ کریں گے

    غیروں سے شکر لب سخن تلخ بھی تیرا

    ہر چند ہلاہل ہو گوارا نہ کریں گے

    بیمار اجل چارہ کو گر حضرت عیسیٰ

    اچھا بھی کریں گے تو کچھ اچھا نہ کریں گے

    جھنجھلاتے ہو کیا دیجیے اک بوسہ دہن کا

    ہو جائیں گے لب بند تو غوغا نہ کریں گے

    دیوار کے گر پڑتے ہی اٹھنے لگے طوفاں

    اب بیٹھ کے کونے میں بھی رویا نہ کریں گے

    گر سامنے اس کے بھی گرے اشک تو دل سے

    کیوں روز جزا خون کا دعوا نہ کریں گے

    کس وقت کیا مردمک چشم کا شکوہ

    اے پردہ نشیں ہم تجھے رسوا نہ کریں گے

    ناصح کف افسوس نہ مل چل تجھے کیا کام

    پامال کریں گے وہ مجھے یا نہ کریں گے

    اس کو میں ٹھہرنے نہ دیا جوش قلق نے

    اغیار سے ہم شکوۂ بے جا نہ کریں گے

    گر ذکر وفا سے یہی غصہ ہے تو اب سے

    گو قتل کا وعدہ ہو تقاضا نہ کریں گے

    مومنؔ وہ غزل کہتے ہیں اب جس سے یہ مضمون

    کھل جائے کہ ترک در بت خانہ کریں گے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY