ہے فصیلیں اٹھا رہا مجھ میں

جون ایلیا

ہے فصیلیں اٹھا رہا مجھ میں

جون ایلیا

MORE BYجون ایلیا

    ہے فصیلیں اٹھا رہا مجھ میں

    جانے یہ کون آ رہا مجھ میں

    جونؔ مجھ کو جلا وطن کر کے

    وہ مرے بن بھلا رہا مجھ میں

    مجھ سے اس کو رہی تلاش امید

    سو بہت دن چھپا رہا مجھ میں

    تھا قیامت سکوت کا آشوب

    حشر سا اک بپا رہا مجھ میں

    پس پردہ کوئی نہ تھا پھر بھی

    ایک پردہ کھنچا رہا مجھ میں

    مجھ میں آ کے گرا تھا اک زخمی

    جانے کب تک پڑا رہا مجھ میں

    اتنا خالی تھا اندروں میرا

    کچھ دنوں تو خدا رہا مجھ میں

    مآخذ:

    • کتاب : shaayed (Pg. 140)

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY