ہے جبر وقت کا قصہ عجب سنائے کون

پیرزادہ قاسم

ہے جبر وقت کا قصہ عجب سنائے کون

پیرزادہ قاسم

MORE BYپیرزادہ قاسم

    ہے جبر وقت کا قصہ عجب سنائے کون

    میں یاد اس کو کروں اور یاد آئے کون

    یہ بات بجھتے دیوں نے کسی سے پوچھی تھی

    جلے تو ہم تھے مگر خیر جگمگائے کون

    اسے تلاش تو کرنا ہے پھر یہ سوچتا ہوں

    زمانہ اور ہے اب زحمتیں اٹھائے کون

    یہاں تو اپنے چراغوں کی فکر ہے سب کو

    دیا جلایا ہے سب نے دیے جلائے کون

    یہاں تو لوگ انہی حیرتوں میں جیتے ہیں

    کہ تیر کس پہ چلے اور زخم کھائے کون

    یہاں تو جاگتی آنکھوں میں خواب جاگتے ہیں

    جو جاگتے ہوں انہیں خواب سے جگائے کون

    یہاں کسی کو کسی کی خبر نہیں ملتی

    مگر یہ بے خبری کی خبر سنائے کون

    یہاں تو صبح سے پہلے ہی بزم برہم ہے

    دیا بجھا دے کوئی پر دیا بجھائے کون

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY