ہے کون کس کی ذات کے اندر لکھیں گے ہم

امیر امام

ہے کون کس کی ذات کے اندر لکھیں گے ہم

امیر امام

MORE BYامیر امام

    ہے کون کس کی ذات کے اندر لکھیں گے ہم

    نہر رواں کو پیاس کا منظر لکھیں گے ہم

    یہ سارہ شہر اعلیٰ حکمت لکھے اسے

    خنجر اگر ہے کوئی تو خنجر لکھیں گے ہم

    اب تم سپاس نامۂ شمشیر لکھ چکے

    اب داستان لاشۂ بے سر لکھیں گے ہم

    رکھی ہوئی ہے دونوں کی بنیاد ریت پر

    صحرائے بے کراں کو سمندر لکھیں گے ہم

    اس شہر بے چراغ کی آندھی نہ ہو اداس

    تجھ کو ہوائے کوچۂ دلبر لکھیں گے ہم

    کیا حسن ان لبوں میں جو پیاسے نہیں رہے

    سوکھے ہوئے لبوں کو گل تر لکھیں گے ہم

    ہم سے گناہ گار بھی اس نے نبھا لیے

    جنت سے یوں زمین کو بہتر لکھیں گے ہم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY