ہے محبت سب کو اس کے ابروئے خم دار کی

امام بخش ناسخ

ہے محبت سب کو اس کے ابروئے خم دار کی

امام بخش ناسخ

MORE BYامام بخش ناسخ

    ہے محبت سب کو اس کے ابروئے خم دار کی

    ہند میں کیا آبرو باقی رہی تلوار کی

    وصل کی شب چاندنی دیوار سے جانے نہ پائے

    منتیں کرتا ہوں ہر خار سر دیوار کی

    استرا پھرنے سے روئے یار پر ہے دور خط

    چال اس کم بخت نے سیکھی ہے کیا پرکار کی

    نشۂ مے کا گماں کرنے لگا وہ بدگماں

    دیکھ کر سرخی ہمارے دیدۂ خوں بار کی

    گھر بھی میرا منتظر ہے یار کا میری طرح

    روزن در میں ہے صورت دیدۂ بیدار کی

    کہتے ہو ہم خواب میں آتے جو تو سوتا کبھی

    خوب کی برباد محنت دیدۂ بیدار کی

    باغ عالم میں کہاں ہے کوئی مجھ سا رحم دل

    روز کرتا ہوں عیادت نرگس بیمار کی

    داغ سر ہیں جوش سودا میں برنگ گل مجھے

    مثل گلبن پاؤں میں کب ہے شکایت خار کی

    وہ خدا کا دوست ہے اور دوست ہے اس کا خدا

    کیوں نہ ہو ناسخؔ محبت حیدر کرار کی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY