ہے شیخ و برہمن پر غالب گماں ہمارا

شوق بہرائچی

ہے شیخ و برہمن پر غالب گماں ہمارا

شوق بہرائچی

MORE BYشوق بہرائچی

    ہے شیخ و برہمن پر غالب گماں ہمارا

    یہ جانور نہ چر لیں سب گلستاں ہمارا

    تھی پہلے تو ہماری پہچان سعئ پیہم

    اب سر برہنگی ہے قومی نشاں ہمارا

    ہر ملک اس کے آگے جھکتا ہے احتراماً

    ہر ملک کا ہے فادر ہندوستاں ہمارا

    زاغ و زغن کی صورت منڈلایا آ کے پیہم

    کسٹوڈین نے دیکھا جب آشیاں ہمارا

    مکر و دغا ہے تم سے عجز و خلوص ہم سے

    وہ خانداں تمہارا یہ خانداں ہمارا

    فریاد میکشوں کی سنتا نہیں جو بالکل

    بہرا ضرور ہے کچھ پیر مغاں ہمارا

    در پر ہمارے گم ہو ہر اک حسیں تو کیسے

    ہر آستاں سے اونچا ہے آستاں ہمارا

    ہر تاجور کی اس پر للچا رہی ہیں نظریں

    ہے جیسے حلوا سوہن ہندوستاں ہمارا

    ہو گر تمہاری مرضی تو بحر رنج و غم سے

    ہو جائے پار بیڑا اللہ میاں ہمارا

    چاہ ذقن سے ان کے سیراب تو ہوئے ہم

    میٹھے کنوؤں سے اچھا کھارا کنواں ہمارا

    ہوں شیخ یا برہمن سب جانتے ہیں مجھ کو

    ہے شوقؔ نام نامی اے مہرباں ہمارا

    مآخذ :
    • کتاب : intekhab-e-kalam shauq bahraichi (Pg. 117)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY