ہے سوز دل سے ساماں روشنی کا

شوق مرادابادی

ہے سوز دل سے ساماں روشنی کا

شوق مرادابادی

MORE BYشوق مرادابادی

    ہے سوز دل سے ساماں روشنی کا

    یہ حاصل کم نہیں دل کی لگی کا

    وہی راہیں اکیلی آج پھر میں

    بھرم سب مٹ گیا ہے دوستی کا

    یہ تنہائی یہ آزادی کا عالم

    مزہ آنے لگا ہے زندگی کا

    جہاں دل میں سمٹتے جا رہے ہیں

    تماشہ ہو رہا ہے بے خودی کا

    ہزاروں ساز دل میں بج رہے ہیں

    اثر ہونے لگا ہے بندگی کا

    ہماری آڑ لے کر چھپ رہے ہو

    کھلا سب راز اب پردہ دری کا

    فرشتوں سے بہت اوپر ہے انساں

    بھلا جو چاہتا ہے ہر کسی کا

    تمنا ہی رہی نہ شوقؔ کوئی

    اثر اچھا ہوا آوارگی کا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY