ہیں اب تو حیلے بہانے کے قیل و قال کے دن

قمر صدیقی

ہیں اب تو حیلے بہانے کے قیل و قال کے دن

قمر صدیقی

MORE BYقمر صدیقی

    ہیں اب تو حیلے بہانے کے قیل و قال کے دن

    بھلا کے رکھ دئے تو نے مری مجال کے دن

    کہ دکھ نے کوچۂ شب پار کر لیا شاید

    طلوع ہونے لگے اس لیے ملال کے دن

    ہر ایک لفظ پشیماں پس غبار سکوت

    جواب کی وہ ہوں راتیں کہ پھر سوال کے دن

    چراغ صوت و صدا آج کچھ منور ہے

    وصال شب کے قریں ہیں مرے غزال کے دن

    یہ انتظار کی گھڑیاں یہ شب کا سناٹا

    اس ایک شب میں بھرے ہیں ہزار سال کے دن

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY