ہیں اہل چمن حیراں یہ کیسی بہار آئی

آسی رام نگری

ہیں اہل چمن حیراں یہ کیسی بہار آئی

آسی رام نگری

MORE BYآسی رام نگری

    ہیں اہل چمن حیراں یہ کیسی بہار آئی

    ہیں پھول کھلے لیکن ہے رنگ نہ رعنائی

    ان کے رخ رنگیں سے اس ساعد سیمیں سے

    پھولوں نے پھبن پائی سورج نے ضیا پائی

    سب میکدے ویراں ہیں سنسان گلستاں ہیں

    کہنے کو گھٹا چھائی کہنے کو بہار آئی

    مدہوشی و مستی کا انداز نرالا ہے

    مے رندوں نے پی کم ہی پیمانوں سے چھلکائی

    تنہائی میں رہ کر بھی تنہا نہیں ہوتے ہم

    تنہائی میں یادوں کی جب چلتی ہے پروائی

    اس دور میں جینا بھی کچھ کم نہیں مرنے سے

    ناکردہ گناہوں کی جیسے ہو سزا پائی

    ہنستے ہوئے مرنے کو تیار جو رہتے ہیں

    ایسے ہی جیالوں نے جینے کی ادا پائی

    اس دور کے انساں کا انداز نرالا ہے

    اپنے کو عدو سمجھیں غیروں سے شناسائی

    مأخذ :
    • کتاب : Harf Harf Khowab (Pg. 47)
    • Author : asi ramnagari
    • مطبع : Nasim Pathara Po. Moghalsarai (Varansi) (1992)
    • اشاعت : 1992

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY