ہیں کیسے کیسے مراحل گہر سے آگے بھی

آزاد حسین آزاد

ہیں کیسے کیسے مراحل گہر سے آگے بھی

آزاد حسین آزاد

MORE BYآزاد حسین آزاد

    ہیں کیسے کیسے مراحل گہر سے آگے بھی

    غزل کچھ اور ہے کار ہنر سے آگے بھی

    یہ شعبدے کا تجسس نہ ختم ہوگا کبھی

    جہان ہوگا جہان دگر سے آگے بھی

    بھرے جلوس میں گولی سے مارا جاؤں گا

    میں سوچتا ہوں خدائے بشر سے آگے بھی

    یہ ارد گرد کے منظر مرے شناسا ہیں

    گزر ہوا ہے اسی رہ گزر سے آگے بھی

    ورائے چشم مناظر کی کھوج جاری رکھ

    نظر بڑھا ذرا حد نظر سے آگے بھی

    اک اور جسم ہے میری نظر میں تجھ سا ہی

    اک اور رنگ ہے رنگ سحر سے آگے بھی

    اذیتیں ہیں محرم کے بعد بھی کتنی

    سفر مزید ہیں ماہ صفر سے آگے بھی

    پرائی آنکھ کی پتلی سہارا کیا دیتی

    وہاں اک اور بھنور تھا بھنور سے آگے بھی

    کھلے ہیں راز کئی میرے قتل کے مجھ پر

    پڑھی ہے میں نے کہانی خبر سے آگے بھی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY