ہیں سارے جرم جب اپنے حساب میں لکھنا

عمر انصاری

ہیں سارے جرم جب اپنے حساب میں لکھنا

عمر انصاری

MORE BYعمر انصاری

    ہیں سارے جرم جب اپنے حساب میں لکھنا

    سوال یہ ہے کہ پھر کیا جواب میں لکھنا

    برا سہی میں پہ نیت بری نہیں میری

    مرے گناہ بھی کار ثواب میں لکھنا

    رہا سہا بھی سہارا نہ ٹوٹ جائے کہیں

    نہ ایسی بات کوئی اضطراب میں لکھنا

    یہ اتفاق کہ مانگا تھا ان سے جن کا جواب

    وہ باتیں بھول گئے وہ جواب میں لکھنا

    ہوا محل میں سجایا تھا تم نے جب دربار

    کوئی غریب بھی آیا تھا خواب میں لکھنا

    نہ بھولنا کہ عمرؔ ہیں یہ دوستوں کے حساب

    کبھی نہ پڑھنا جو دل کی کتاب میں لکھنا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY