حیران ہوں دو آنکھوں سے کیا دیکھ رہا ہوں

صابر دت

حیران ہوں دو آنکھوں سے کیا دیکھ رہا ہوں

صابر دت

MORE BYصابر دت

    حیران ہوں دو آنکھوں سے کیا دیکھ رہا ہوں

    ٹوٹے ہوئے ہر دل میں خدا دیکھ رہا ہوں

    نظروں میں تری رنگ نیا دیکھ رہا ہوں

    ہاتھوں میں بھی کچھ رنگ حنا دیکھ رہا ہوں

    رخ ان کا کہیں اور نظر اور طرف ہے

    کس سمت سے آتی ہے قضا دیکھ رہا ہوں

    پھر لائی ہے برسات تری یاد کا موسم

    گلشن میں نیا پھول کھلا دیکھ رہا ہوں

    تو آئے نہ آئے مگر آتی ہے تری یاد

    یادوں میں تجھے آبلہ پا دیکھ رہا ہوں

    یہ کیسی سیاست ہے مرے ملک پہ حاوی

    انسان کو انساں سے جدا دیکھ رہا ہوں

    کاغذ پہ ہوئے میرے وطن کے کئی ٹکڑے

    پنجاب کی بانہوں کو کٹا دیکھ رہا ہوں

    تخلیق نہ سنبھلی تو بنے لوگ محقق

    غالب کا ہوا حال یہ کیا دیکھ رہا ہوں

    کل تک جو دیئے محفل یاراں میں تھے روشن

    آج ان کو ستاروں میں چھپا دیکھ رہا ہوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY