حیرت زدہ میں ان کے مقابل میں رہ گیا

تلوک چند محروم

حیرت زدہ میں ان کے مقابل میں رہ گیا

تلوک چند محروم

MORE BY تلوک چند محروم

    حیرت زدہ میں ان کے مقابل میں رہ گیا

    جو دل کا مدعا تھا مرے دل میں رہ گیا

    خنجر کا وار کرتے ہی قاتل رواں ہوا

    ارمان دید دیدۂ بسمل میں رہ گیا

    جتنی صفا تھی سب رخ جاناں میں آ گئی

    جو داغ رہ گیا مہ کامل میں رہ گیا

    اے مہربان دشت محبت چلے چلو

    اپنا تو پائے شوق سلاسل میں رہ گیا

    وحشت فزا بہت تھی ہوا دشت قیس کی

    پردہ کسی کا پردۂ محمل میں رہ گیا

    محرومؔ دل کے ہاتھ سے جاں تھی عذاب میں

    اچھا ہوا کہ یار کی محفل میں رہ گیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY