ہم دہر کے اس ویرانے میں جو کچھ بھی نظارا کرتے ہیں

معین احسن جذبی

ہم دہر کے اس ویرانے میں جو کچھ بھی نظارا کرتے ہیں

معین احسن جذبی

MORE BYمعین احسن جذبی

    ہم دہر کے اس ویرانے میں جو کچھ بھی نظارا کرتے ہیں

    اشکوں کی زباں میں کہتے ہیں آہوں میں اشارا کرتے ہیں

    کیا تجھ کو پتا کیا تجھ کو خبر دن رات خیالوں میں اپنے

    اے کاکل گیتی ہم تجھ کو جس طرح سنوارا کرتے ہیں

    اے موج بلا ان کو بھی ذرا دو چار تھپیڑے ہلکے سے

    کچھ لوگ ابھی تک ساحل سے طوفاں کا نظارا کرتے ہیں

    کیا جانیے کب یہ پاپ کٹے کیا جانیے وہ دن کب آئے

    جس دن کے لیے ہم اے جذبیؔ کیا کچھ نہ گوارا کرتے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY