ہم ایک دن نکل آئے تھے خواب سے باہر

فہیم شناس کاظمی

ہم ایک دن نکل آئے تھے خواب سے باہر

فہیم شناس کاظمی

MORE BYفہیم شناس کاظمی

    ہم ایک دن نکل آئے تھے خواب سے باہر

    سو ہم نے رنج اٹھائے حساب سے باہر

    اسی امید پہ گزری ہے زندگی ساری

    کبھی تو ہم سے ملوگے حجاب سے باہر

    تمہاری یاد نکلتی نہیں مرے دل سے

    نشہ چھلکتا نہیں ہے شراب سے باہر

    کسی کے دل میں اترنا ہے کار لا حاصل

    کہ ساری دھوپ تو ہے آفتاب سے باہر

    شناسؔ کھول دیئے جس نے ہم پہ سب اسرار

    وہ ایک لفظ ملا ہے کتاب سے باہر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY