ہم ہی میں تھی نہ کوئی بات یاد نہ تم کو آ سکے

حفیظ جالندھری

ہم ہی میں تھی نہ کوئی بات یاد نہ تم کو آ سکے

حفیظ جالندھری

MORE BY حفیظ جالندھری

    ہم ہی میں تھی نہ کوئی بات یاد نہ تم کو آ سکے

    تم نے ہمیں بھلا دیا ہم نہ تمہیں بھلا سکے

    تم ہی نہ سن سکے اگر قصۂ غم سنے گا کون

    کس کی زباں کھلے گی پھر ہم نہ اگر سنا سکے

    ہوش میں آ چکے تھے ہم جوش میں آ چکے تھے ہم

    بزم کا رنگ دیکھ کر سر نہ مگر اٹھا سکے

    رونق بزم بن گئے لب پہ حکایتیں رہیں

    دل میں شکایتیں رہیں لب نہ مگر ہلا سکے

    شوق وصال ہے یہاں لب پہ سوال ہے یہاں

    کس کی مجال ہے یہاں ہم سے نظر ملا سکے

    ایسا ہو کوئی نامہ بر بات پہ کان دھر سکے

    سن کے یقین کر سکے جا کے انہیں سنا سکے

    عجز سے اور بڑھ گئی برہمی مزاج دوست

    اب وہ کرے علاج دوست جس کی سمجھ میں آ سکے

    اہل زباں تو ہیں بہت کوئی نہیں ہے اہل دل

    کون تری طرح حفیظؔ درد کے گیت گا سکے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    حفیظ جالندھری

    حفیظ جالندھری

    مہدی حسن

    مہدی حسن

    امجد پرویز

    امجد پرویز

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY