ہم جیسے تیغ ظلم سے ڈر بھی گئے تو کیا

باصر سلطان کاظمی

ہم جیسے تیغ ظلم سے ڈر بھی گئے تو کیا

باصر سلطان کاظمی

MORE BYباصر سلطان کاظمی

    ہم جیسے تیغ ظلم سے ڈر بھی گئے تو کیا

    کچھ وہ بھی ہیں جو کہتے ہیں سر بھی گئے تو کیا

    اٹھتی رہیں گی درد کی ٹیسیں تمام عمر

    ہیں زخم تیرے ہاتھ کے بھر بھی گئے تو کیا

    ہیں کون سے بہار کے دن اپنے منتظر

    یہ دن کسی طرح سے گزر بھی گئے تو کیا

    اک مکر ہی تھا آپ کا ایفائے عہد بھی

    اپنے کہے سے آج مکر بھی گئے تو کیا

    ہم تو اسی طرح سے پھریں گے خراب حال

    یہ شعر تیرے دل میں اتر بھی گئے تو کیا

    باصرؔ تمہیں یہاں کا ابھی تجربہ نہیں

    بیمار ہو؟ پڑے رہو، مر بھی گئے تو کیا

    مأخذ :
    • کتاب : Funoon (Monthly) (Pg. 401)
    • Author : Ahmad Nadeem Qasmi
    • مطبع : 4 Maklood Road, Lahore (Edition Nov. Dec. 1985,Issue No. 23)
    • اشاعت : Edition Nov. Dec. 1985,Issue No. 23

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY