ہم میکدے سے مر کے بھی باہر نہ جائیں گے

بیدم شاہ وارثی

ہم میکدے سے مر کے بھی باہر نہ جائیں گے

بیدم شاہ وارثی

MORE BYبیدم شاہ وارثی

    ہم میکدے سے مر کے بھی باہر نہ جائیں گے

    میکش ہماری خاک کے ساغر بنائیں گے

    وہ اک کہیں گے ہم سے تو ہم سو سنائیں گے

    منہ آئیں گے ہمارے تو اب منہ کی کھائیں گے

    کچھ چارہ سازی نالوں نے کی ہجر میں مری

    کچھ اشک میرے دل کی لگی کو بجھائیں گے

    وہ مثل اشک اٹھ نہیں سکتا زمین سے

    جس کو حضور اپنی نظر سے گرائیں گے

    جھونکے نسیم صبح کے آ آ کے ہجر میں

    اک دن چراغ ہستیٔ عاشق بجھائیں گے

    صحرا کی گرد ہوگی کفن مجھ غریب کا

    اٹھ کر بگولے میرا جنازہ اٹھائیں گے

    اب ٹھان لی ہے دل میں کہ سر جائے یا رہے

    جیسے اٹھے گا بار محبت اٹھائیں گے

    گردش نے میری چرخ کا چکرا دیا دماغ

    نالوں سے اب زمیں کے طبق تھرتھرائیں گے

    بیدمؔ وہ خوش نہیں ہیں تو اچھا یوں ہی سہی

    ناخوش ہی ہو کے غیر مرا کیا بنائیں گے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے