ہم نہ اس ٹولی میں تھے یارو نہ اس ٹولی میں تھے

آل احمد سرور

ہم نہ اس ٹولی میں تھے یارو نہ اس ٹولی میں تھے

آل احمد سرور

MORE BYآل احمد سرور

    ہم نہ اس ٹولی میں تھے یارو نہ اس ٹولی میں تھے

    نے کسی کی جیب میں تھے نہ کسی جھولی میں تھے

    بندہ پرور صرف نظارے پہ قدغن کس لیے

    پھول پھل جو باغ کے تھے آپ کی جھولی میں تھے

    آپ کے نعروں میں للکاروں میں کیسے آئیں گے

    زمزمے جو ان کہی اک پیار کی بولی میں تھے

    پھر کسی کوفے میں تنہا ہے کوئی ابن عقیل

    اس کے ساتھی سب کے سب سرکار کی ٹولی میں تھے

    اب دھنک کے رنگ بھی ان کو بھلے لگتے نہیں

    مست سارے شہر والے خون کی ہولی میں تھے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    ہم نہ اس ٹولی میں تھے یارو نہ اس ٹولی میں تھے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY