ہم نے چاہا تھا جنہیں شوق سے ارمانوں سے
ہم نے چاہا تھا جنہیں شوق سے ارمانوں سے
وہ بہاریں نہیں وابستہ گلستانوں سے
عظمت فطرت ادراک بدل جاتی ہے
کام بگڑے ہوئے بن جاتے ہیں دیوانوں سے
قہقہے درد کی تمہید بھی ہو سکتے ہیں
بجلیاں بھی کبھی ٹکراتی ہیں کاشانوں سے
موت ان کے لئے پیغام بقا ہوتی ہے
کھیل جاتے ہیں جو بے ساختہ طوفانوں سے
کس قدر پست ہوا فطرت آدم کا وقار
آج انسان لرز اٹھتا ہے انسانوں سے
اور بڑھ جاتا ہے انداز جنوں کا عالم
جب بھی دیوانے الجھتے ہیں گریبانوں سے
مے کشی نام ہے پینے کا نگاہوں سے مدام
ہم نے پینا نہیں سیکھا کبھی پیمانوں سے
کس قدر فطرت بے باک کی خو بدلی ہے
عزم محمود لرزتا ہے صنم خانوں سے
ہم رہے دہر میں آزردۂ ساحل خورشیدؔ
ناخدا سے کبھی الجھے کبھی طوفانوں سے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.