ہم نے پائی لذت دیدار لیکن دور سے

مضطر خیرآبادی

ہم نے پائی لذت دیدار لیکن دور سے

مضطر خیرآبادی

MORE BYمضطر خیرآبادی

    ہم نے پائی لذت دیدار لیکن دور سے

    ان کی صورت دیکھ لی سو بار لیکن دور سے

    وہ دکھاتے ہیں ہمیں رخسار لیکن دور سے

    اس کا مطلب ہے کہ کر لو پیار لیکن دور سے

    اس نے جانچا میرا درد دل مگر آیا نہ پاس

    اس نے دیکھا میرا حال زار لیکن دور سے

    روزن دیوار سے حسرت بھری آنکھیں لڑیں

    ہو گئیں ان سے نگاہیں چار لیکن دور سے

    اس نے آنے کا کیا ہے قول لیکن تا بہ در

    اس نے ملنے کا کیا اقرار لیکن دور سے

    پاس مضطرؔ کس طرح جاتے ہجوم یاس میں

    ہو گیا ان کا ہمیں دیدار لیکن دور سے

    مأخذ :
    • کتاب : Khirman (Part-1) (Pg. 233)
    • Author : Muztar Khairabadi
    • مطبع : Javed Akhtar (2015)
    • اشاعت : 2015

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY