ہم نے رکھا تھا جسے اپنی کہانی میں کہیں

ابرار احمد

ہم نے رکھا تھا جسے اپنی کہانی میں کہیں

ابرار احمد

MORE BY ابرار احمد

    ہم نے رکھا تھا جسے اپنی کہانی میں کہیں

    اب وہ تحریر ہے اوراق خزانی میں کہیں

    بس یہ اک ساعت ہجراں ہے کہ جاتی ہی نہیں

    کوئی ٹھہرا بھی ہے اس عالم فانی میں کہیں

    جتنا ساماں بھی اکٹھا کیا اس گھر کے لیے

    بھول جائیں گے اسے نقل مکانی میں کہیں

    خیر اوروں کا تو کیا ذکر کہ اب لگتا ہے

    تو بھی شامل ہے مرے رنج زمانی میں کہیں

    چشم نمناک کو اس درجہ حقارت سے نہ دیکھ

    تجھ کو مل جانا ہے اک دن اسی پانی میں کہیں

    مرکز جاں تو وہی تو ہے مگر تیرے سوا

    لوگ ہیں اور بھی اس یاد پرانی میں کہیں

    جشن ماتم بھی ہے رونق سی تماشائی کو

    کوئی نغمہ بھی ہے اس مرثیہ خوانی میں کہیں

    آج کے دن میں کسی اور ہی دن کی ہے جھلک

    شام ہے اور ہی اس شام سہانی میں کہیں

    کیا سمجھ آئے کسی کو مجھے معلوم بھی ہے

    بات کر جاتا ہوں میں اپنی روانی میں کہیں

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    ہم نے رکھا تھا جسے اپنی کہانی میں کہیں نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY