ہم پڑھ رہے تھے خواب کے پرزوں کو جوڑ کے

شہریار

ہم پڑھ رہے تھے خواب کے پرزوں کو جوڑ کے

شہریار

MORE BYشہریار

    ہم پڑھ رہے تھے خواب کے پرزوں کو جوڑ کے

    آندھی نے یہ طلسم بھی رکھ ڈالا توڑ کے

    آغاز کیوں کیا تھا سفر ان خلاؤں کا

    پچھتا رہے ہو سبز زمینوں کو چھوڑ کے

    اک بوند زہر کے لیے پھیلا رہے ہو ہاتھ

    دیکھو کبھی خود اپنے بدن کو نچوڑ کے

    کچھ بھی نہیں جو خواب کی صورت دکھائی دے

    کوئی نہیں جو ہم کو جگائے جھنجھوڑ کے

    ان پانیوں سے کوئی سلامت نہیں گیا

    ہے وقت اب بھی کشتیاں لے جاؤ موڑ کے

    مأخذ :
    • کتاب : sooraj ko nikalta dekhoon (Pg. 286)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY