ہم رنگ لاغری سے ہوں گل کی شمیم کا

مومن خاں مومن

ہم رنگ لاغری سے ہوں گل کی شمیم کا

مومن خاں مومن

MORE BYمومن خاں مومن

    ہم رنگ لاغری سے ہوں گل کی شمیم کا

    طوفان باد ہے مجھے جھونکا نسیم کا

    چھوڑا نہ کچھ بھی سینے میں طغیان اشک نے

    اپنی ہی فوج ہو گئی لشکر غنیم کا

    یاران نو کے واسطے مجھ سے خفا ہوئے

    تم کو نہیں ہے پاس نیاز قدیم کا

    یاد آئی کافروں کو مری آہ سرد کی

    کیونکہ نہ کانپنے لگے شعلہ جحیم کا

    از بس کہ ثبت نامہ ہے سوز تپ دروں

    قاصد کا ہاتھ ہے ید بیضا کلیم کا

    واعظ کبھی ہلا نہیں کوئے صنم سے میں

    کیا جانوں کیا ہے مرتبہ عرش عظیم کا

    مارا ہے وصل غیر کے شکوے پہ چاہیئے

    مدفن جدا جدا مری لاش دو نیم کا

    کہتا ہے بات بات پہ کیوں جان کھا گئے

    گویا کہ پک گیا ہے کلیجہ ندیم کا

    واعظ بتوں کو خلد میں لے جائیں گے کہیں

    ہے وعدہ کافروں سے عذاب الیم کا

    مومنؔ تجھے تو وہب ہے مومن ہی وہ نہیں

    جو معتقد نہیں تری طبع سلیم کا

    RECITATIONS

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    ہم رنگ لاغری سے ہوں گل کی شمیم کا فصیح اکمل

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY