ہم سے دیوانوں کو عصری آگہی ڈستی رہی

اسد رضا

ہم سے دیوانوں کو عصری آگہی ڈستی رہی

اسد رضا

MORE BYاسد رضا

    ہم سے دیوانوں کو عصری آگہی ڈستی رہی

    کھوکھلی تہذیب کی فرزانگی ڈستی رہی

    شعلۂ نفرت تو بھڑکا ایک لمحہ کے لیے

    مدتوں پھر شہر کو اک تیرگی ڈستی رہی

    موت کی ناگن سے اب ہرگز وہ ڈر سکتا نہیں

    جس کو ساری عمر خود یہ زندگی ڈستی رہی

    میں نہ جانے کتنے جنموں کا ہوں پیاسا دوستو

    رہ کے دریا میں بھی مجھ کو تشنگی ڈستی رہی

    آپ کے ہونٹوں پہ جو مدت سے ہے چھائی ہوئی

    درد میں ڈوبی ہوئی وہ خامشی ڈستی رہی

    ایک تم ہو دشمنی بھی راس آئی ہے جسے

    اور اک میں ہوں کہ جس کو دوستی ڈستی رہی

    ہر گھڑی چہرے پہ جو چہرے لگاتا ہی رہا

    عمر بھر اس کو اسدؔ بے چہرگی ڈستی رہی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY