ہم سے کیا خاک کے ذروں ہی سے پوچھا ہوتا

انجم اعظمی

ہم سے کیا خاک کے ذروں ہی سے پوچھا ہوتا

انجم اعظمی

MORE BYانجم اعظمی

    ہم سے کیا خاک کے ذروں ہی سے پوچھا ہوتا

    زندگی ایک تماشا ہے تو دیکھا ہوتا

    دیکھتے گر ہمیں عالم کو بہ انداز دگر

    اور ہی دشت جنوں میں دل رسوا ہوتا

    کیا کیا اہل محبت نے مگر تیرے لیے

    ہم نے اک صحن‌ چمن اور بھی ڈھونڈا ہوتا

    تم بھی ہوتے مے و نغمہ بھی دل شیدا بھی

    اور ایسے میں اگر ابر برستا ہوتا

    ہنس کے اک جام پلاتا کوئی دیوانے کو

    پیار تو ہوتا مگر کاہے کو سودا ہوتا

    تذکرے ہوتے رہے چاک گریبانوں کے

    ہاں تری بزم طرب میں کوئی ایسا ہوتا

    تشنہ لب کون ہے گو جام نہ آیا ہم تک

    دور اک اور چلا خون جگر کیا ہوتا

    خاک نے کتنے بد اطوار کئے ہیں پیدا

    یہ نہ ہوتے تو اسی خاک سے کیا کیا ہوتا

    اس سے ملنا ہی غضب ہو گیا ورنہ انجمؔ

    در بدر پھرنے کا جھگڑا بھی نہ اٹھا ہوتا

    مآخذ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY