ہم شعلہ بدست اتنی محبت سے جلے ہیں

اکرم جاذب

ہم شعلہ بدست اتنی محبت سے جلے ہیں

اکرم جاذب

MORE BYاکرم جاذب

    ہم شعلہ بدست اتنی محبت سے جلے ہیں

    جو دیکھنے والے تھے وہ حسرت سے جلے ہیں

    خوشبو سے جلے ہیں کبھی صورت سے جلے ہیں

    بد خواہ حسد کرنے کی عادت سے جلے ہیں

    جل جائے جہاں خون نہیں کھولتا ان کا

    ہم برف زدہ لوگوں کی فطرت سے جلے ہیں

    کب شعلگی لو دینے سے آئی ہے کبھی باز

    یہ حسن نظر والے عنایت سے جلے ہیں

    اک آگ کے دریا کو بتایا ہے چمن زار

    ہم ڈوبنے والوں کی رعایت سے جلے ہیں

    کردار پہ آنے ہی نہیں دی ہے کبھی آنچ

    کچھ لوگ محبت میں مہارت سے جلے ہیں

    اس آگ میں راحت کے بھی سامان ہیں جاذبؔ

    سمجھائیں بھی کیسے کہ ضرورت سے جلے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY