ہم تشخص کھو رہے ہیں ذات کی تشہیر میں

قاسم جلال

ہم تشخص کھو رہے ہیں ذات کی تشہیر میں

قاسم جلال

MORE BYقاسم جلال

    ہم تشخص کھو رہے ہیں ذات کی تشہیر میں

    خود بکھرتے جا رہے ہیں کوشش تعمیر میں

    یہ بھی سوچیں کاش عزت کیا ہے اور ذلت ہے کیا

    وہ جو رسوا ہو رہے ہیں حسرت توقیر میں

    آج نخل مصلحت کی چھاؤں میں ہے محو خواب

    پرورش جس کی ہوئی تھی سایۂ شمشیر میں

    اے سخنور تم جو کہتے ہو وہ کیوں کرتے نہیں

    کیوں ہم آہنگی نہیں کردار اور تحریر میں

    اس کی صبحیں دل کشا ہیں اس کی شامیں جاں فزا

    کھو گیا جو شخص لطف نالۂ شبگیر میں

    ہو عطا جس شخص کو نور بصیرت اے جلالؔ

    دیکھ لیتا ہے مصور کو بھی وہ تصویر میں

    مآخذ:

    • کتاب : Urdu Adab (Pg. 54)
    • Author : Iqbal Hussain
    • مطبع : Iqbal Hussain Publishers (Jan, Feb. Mar 1996)
    • اشاعت : Jan, Feb. Mar 1996

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY