ہم تو آسان سمجھتے تھے کہ رستہ کم تھا

خالد محمود ذکی

ہم تو آسان سمجھتے تھے کہ رستہ کم تھا

خالد محمود ذکی

MORE BYخالد محمود ذکی

    ہم تو آسان سمجھتے تھے کہ رستہ کم تھا

    اس مسافت میں محبت کا علاقہ کم تھا

    یوں تو دیوار کے پہلو میں کھڑے تھے ہم بھی

    دھوپ ایسی تھی کہ دیوار کا سایہ کم تھا

    کیسا لمحہ تھا کہ ہم ترک سفر کر بیٹھے

    خواب کم تھے نہ ترے غم کا اثاثہ کم تھا

    قامت حسن میں ثانی ہی نہیں تھا اس کا

    شہر بے فیض ترا ذوق تماشا کم تھا

    اک تعلق تھا جو ٹوٹا ہے کہ ہم ٹوٹے ہیں

    پھر بھی لگتا ہے کہ ہم نے اسے چاہا کم تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے