ہم تو بس اک عقدہ تھے حل ہونے تک

رفیق راز

ہم تو بس اک عقدہ تھے حل ہونے تک

رفیق راز

MORE BYرفیق راز

    ہم تو بس اک عقدہ تھے حل ہونے تک

    زنجیروں میں بند تھے پاگل ہونے تک

    عشق اگر ہے دین تو پھر ہو جائیں گے

    ہم بھی مرتد اس کے مکمل ہونے تک

    میں پانی تھا سورج گھور رہا تھا مجھے

    کیا کرتا بے بس تھا بادل ہونے تک

    اب تو خیر سراب سی خوب چمکتی ہے

    آنکھ تھی دریا شہر کے جنگل ہونے تک

    مجھ میں بھی تھی تیز سی خوشبو معنی کی

    مہک رہا تھا میں بھی مہمل ہونے تک

    اب وہ میری آنکھ پہ ایماں لایا ہے

    دشت ہی تھا یہ دل بھی جل تھل ہونے تک

    جھیل کبھی تالاب کبھی دریا تھا کبھی

    میرے کیا کیا روپ تھے دلدل ہونے تک

    مأخذ :
    • کتاب : Nakhl-e-Aab (Pg. 27)
    • Author : Rafeeq Raaz
    • مطبع : Takbeer Publications, Srinagar (2015)
    • اشاعت : 2015

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے