ہم تحفے میں گھڑیاں تو دے دیتے ہیں

فریحہ نقوی

ہم تحفے میں گھڑیاں تو دے دیتے ہیں

فریحہ نقوی

MORE BYفریحہ نقوی

    ہم تحفے میں گھڑیاں تو دے دیتے ہیں

    اک دوجے کو وقت نہیں دے پاتے ہیں

    آنکھیں بلیک اینڈ وائٹ ہیں تو پھر ان میں کیوں

    رنگ برنگے خواب کہاں سے آتے ہیں

    خوابوں کی مٹی سے بنے دو کوزوں میں

    دو دریا ہیں اور اکٹھے بہتے ہیں

    چھوڑو جاؤ کون کہاں کی شہزادی

    شہزادی کے ہاتھ میں چھالے ہوتے ہیں

    درد کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا

    ہم بے کار حروف الٹتے رہتے ہیں

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    فریحہ نقوی

    فریحہ نقوی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY