ہم عمر کے ساتھ ہیں سفر میں

مضطر خیرآبادی

ہم عمر کے ساتھ ہیں سفر میں

مضطر خیرآبادی

MORE BYمضطر خیرآبادی

    ہم عمر کے ساتھ ہیں سفر میں

    بیٹھے ہوئے جا رہے ہیں گھر میں

    ہم لٹ گئے تیری رہ گزر میں

    یہ ایک ہوئی ہے عمر بھر میں

    اب کون رہا کہ جس کو دیکھوں

    اک تو تھا سو آ گیا نظر میں

    حسرت کو ملا ہے خانۂ دل

    تقدیر کھلی غریب گھر میں

    آنکھیں نہ چراؤ دل میں رہ کر

    چوری نہ کرو خدا کے گھر میں

    اب وصل کی رات ہو چکی ختم

    لو چھپ رہو دامن سحر میں

    میں آپ ہی ان سے بولتا ہوں

    بیٹھا ہوں زبان‌ نامہ بر میں

    مضطرؔ کرو دل ہی دل میں شکوے

    رہ جائے گی بات گھر کی گھر میں

    مأخذ :
    • کتاب : Khirman (Part-1) (Pg. 126)
    • Author : Muztar Khairabadi
    • مطبع : Javed Akhtar (2015)
    • اشاعت : 2015

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY