ہم ان کو چھین کر لائے ہیں کتنے دعوے داروں سے

کیف بھوپالی

ہم ان کو چھین کر لائے ہیں کتنے دعوے داروں سے

کیف بھوپالی

MORE BYکیف بھوپالی

    ہم ان کو چھین کر لائے ہیں کتنے دعوے داروں سے

    شفق سے چاندنی راتوں سے پھولوں سے ستاروں سے

    ہمارے زخم دل داغ جگر کچھ ملتے جلتے ہیں

    گلوں سے گل رخوں سے مہوشوں سے ماہ پاروں سے

    زمانے میں کبھی بھی قسمتیں بدلا نہیں کرتیں

    امیدوں سے بھروسوں سے دلاسوں سے سہاروں سے

    سنے کوئی تو اب بھی روشنی آواز دیتی ہے

    گپھاؤں سے پہاڑوں سے بیابانوں سے غاروں سے

    برابر ایک پیاسی روح کی آواز آتی ہے

    کنوؤں سے پن گھٹوں سے ندیوں سے آبشاروں سے

    کبھی پتھر کے دل اے کیفؔ پگھلے ہیں نہ پگھلیں گے

    مناجاتوں سے فریادوں سے چیخوں سے پکاروں سے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے