ہم انہیں یوں ہی آزمائیں گے

رخسار ناظم آبادی

ہم انہیں یوں ہی آزمائیں گے

رخسار ناظم آبادی

MORE BYرخسار ناظم آبادی

    ہم انہیں یوں ہی آزمائیں گے

    پیار میں شرط کیوں لگائیں گے

    یہ پرندے ہیں آشیانے کو

    پر نکلتے ہی بھول جائیں گے

    یاد رکھنا تمہاری آنکھوں میں

    ہم بہت جلد جھلملائیں گے

    کیا تمہیں تب یقین آئے گا

    لوگ جب انگلیاں اٹھائیں گے

    درمیاں اپنے آ گئی جو خلیج

    اس پر اک روز پل بنائیں گے

    بے وفا زندگی کے رشتے کو

    آخری سانس تک نبھائیں گے

    ایک بازی تری خوشی کے لئے

    تجھ سے دانستہ ہار جائیں گے

    دور ایسا بھی ایک آئے گا

    ظرف کم ظرف آزمائیں گے

    آپ کو عاجزی جتائے گی

    وہ تکبر میں ہار جائیں گے

    پیار کی گفتگو نہیں کیجے

    زخم سوئے ہیں جاگ جائیں گے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY