ہم وہ آوارہ کہ جو دشت نہ گھر کے لئے ہیں

اسلم محمود

ہم وہ آوارہ کہ جو دشت نہ گھر کے لئے ہیں

اسلم محمود

MORE BY اسلم محمود

    ہم وہ آوارہ کہ جو دشت نہ گھر کے لئے ہیں

    جانے پھر کون سی دنیائے دگر کے لئے ہیں

    جبر موسم کے ہیں جتنے بھی شجر کے لئے ہیں

    ان کو کیا اس سے جو بیتاب ثمر کے لئے ہیں

    رونقیں بھی تو بجھا دیتی ہیں آنکھیں اکثر

    کچھ نظارے ہیں کہ قاتل جو نظر کے لئے ہیں

    راس آتی ہے بھلا ان کو کہاں نان جویں

    لوگ زندہ یہ فقط لقمۂ تر کے لئے ہیں

    تم تو افلاک سے تاروں کی خبر لے آئے

    ہم پریشان ابھی سمت سفر کے لئے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY