ہمارے جسموں میں دن ہی کا زہر کیا کم تھا

عشرت قادری

ہمارے جسموں میں دن ہی کا زہر کیا کم تھا

عشرت قادری

MORE BYعشرت قادری

    INTERESTING FACT

    بھوپال زہریلی گیس المیہ پر

    ہمارے جسموں میں دن ہی کا زہر کیا کم تھا

    برہنہ رات بھی آئی تو سبز موسم تھا

    ہلاکتوں کا صلہ قاتلوں سے کیا ملتا

    کہ قطرہ قطرہ لہو کا نظر میں شبنم تھا

    بکھرنے ٹوٹنے کا سلسلہ تھا راہوں میں

    تمام خوابوں کا تعبیر نامہ ماتم تھا

    گراں ہے مٹی کا ٹوٹا ہوا پیالہ اب

    یہی وہ ہاتھ ہیں کل جن میں ساغر جم تھا

    گھسٹ رہے تھے زمیں پر ہزارہا انساں

    امید و بیم کا ہر اک چراغ مدھم تھا

    میں زندگی سے شناسا ہوں اس قدر عشرتؔ

    نگاہ اٹھتی تھی جس سمت ہو کا عالم تھا

    مآخذ:

    • کتاب : Aasman Saiyban (Poetry) (Pg. 115)
    • Author : Ishrat Qadri
    • مطبع : Madhya Pradesh Urdu Academy, Bhopal (2010)
    • اشاعت : 2010

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY