Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ہمارے پاس آنے پر حیا سے کام لیتی ہو

متر سنگھ آشنا

ہمارے پاس آنے پر حیا سے کام لیتی ہو

متر سنگھ آشنا

MORE BYمتر سنگھ آشنا

    ہمارے پاس آنے پر حیا سے کام لیتی ہو

    مگر تنہائی میں اکثر ہمارا نام لیتی ہو

    سر محفل تو کوئی گفتگو کرتی نہیں ہو تم

    نگاہوں سے مرے دل کے مگر پیغام لیتی ہو

    مرے پینے سے نفرت کیوں ہے تم کو یہ تو بتلاؤ

    صراحی توڑ دیتی ہو کبھی تم جام لیتی ہو

    سناتی ہو میری چاہت کے قصے تم سہیلی کو

    خوشی سے جھوم کے اپنا ہی دامن تھام لیتی ہو

    تمہارے دل کی دھڑکن میں بسے جو پیار کے نغمے

    ہمارا نام ان نغموں میں صبح و شام لیتی ہو

    گوارا کر نہیں سکتیں اگرچہ روٹھ کے جانا

    تو پھر کیوں بے رخی کا اپنے سر الزام لیتی ہو

    مجھے معلوم ہے تم آشناؔ ہو میری چاہت سے

    ادائے بے رخی سے بھی مگر تم کام لیتی ہو

    مأخذ:

    غزل آشنا (Pg. 95)

    • مصنف: متر سنگھ آشنا
      • ناشر: ایشین پبلشرز، نئی دہلی
      • سن اشاعت: 1993

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے