ہمارے ساتھ عجب ہی معاملہ ہوا ہے

خالدہ عظمی

ہمارے ساتھ عجب ہی معاملہ ہوا ہے

خالدہ عظمی

MORE BYخالدہ عظمی

    ہمارے ساتھ عجب ہی معاملہ ہوا ہے

    ہوا ٹھہر سی گئی ہے دیا جلا ہوا ہے

    اسی مقام پہ اک قافلہ رکا ہوا ہے

    جہاں تمہارا مرا راستہ جدا ہوا ہے

    نہ جانے باد صبا کہہ گئی ہے کان میں کیا

    کہ پھول شاخ بریدہ پہ بھی کھلا ہوا ہے

    ملے اک عمر کے بعد اور اس طرح سے ملے

    وہ چپ ہے اور ہمارا بھی سر جھکا ہوا ہے

    دیار مہر کی سرحد تلاش کرنے کو

    مہ و نجوم کا اک قافلہ چلا ہوا ہے

    حقیقتیں تو اٹل ہیں بدل نہیں سکتیں

    مگر کسی کی تسلی سے حوصلہ ہوا ہے

    بجائے دو کے بجے ایک ہاتھ سے تالی

    معاملات میں ایسا کبھی بھلا ہوا ہے

    مری امید کا ہے تیری آرزو کا ہے

    دیا ہے اور بڑی دیر سے جلا ہوا ہے

    امید کھل سی گئی ہے مہک اٹھا ہے خیال

    صبا کی نرم سی دستک پہ دل کو کیا ہوا ہے

    مہک رہا ہے مرے خار خار جیون میں

    وہ لمحہ جو ابھی مجھ میں گلاب سا ہوا ہے

    مأخذ :
    • کتاب : Sitara Pas e Mizgaan (Pg. 49)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY