ہمارے سر پہ یہ اکثر غضب ہوتا ہی رہتا ہے

نبیل احمد نبیل

ہمارے سر پہ یہ اکثر غضب ہوتا ہی رہتا ہے

نبیل احمد نبیل

MORE BYنبیل احمد نبیل

    ہمارے سر پہ یہ اکثر غضب ہوتا ہی رہتا ہے

    لہو امید کا ہم سے طلب ہوتا ہی رہتا ہے

    نکلتی ہی نہیں دل سے کبھی یادیں محبت کی

    ستم اس دل پہ اپنے روز و شب ہوتا ہی رہتا ہے

    پرانے لوگ رہتے ہیں نگاہوں میں سدا میری

    کوئی پیش نظر نام و نسب ہوتا ہی رہتا ہے

    کوئی صورت تباہی کی نکلتی رہتی ہے اکثر

    اجڑنے کا کوئی تازہ سبب ہوتا ہی رہتا ہے

    ہمیشہ خون کرتے ہیں ہماری آرزوؤں کا

    تمناؤں کا نذرانہ طلب ہوتا ہی رہتا ہے

    یہ لڑنا اور جھگڑنا ہے سبھی معمول کی باتیں

    خفا ہم سے وہ اکثر بے سبب ہوتا ہی ہوتا ہے

    ستاروں کی طرف اٹھتی ہی رہتی ہے نظر اپنی

    شب تاریک میں ایسا تو سب ہوتا ہی رہتا ہے

    قیامت ہوتی رہتی ہے بپا اب شہر میں ہر سو

    یہاں محشر بپا اے دوست اب ہوتا ہی رہتا ہے

    سخن پامال ہوتا ہے نبیلؔ اس عہد میں ہر پل

    یہاں پامال ہر لمحہ ادب ہوتا ہی رہتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY