ہمارے ذہن میں یہ بات بھی نہیں آئی

شہرام سرمدی

ہمارے ذہن میں یہ بات بھی نہیں آئی

شہرام سرمدی

MORE BYشہرام سرمدی

    ہمارے ذہن میں یہ بات بھی نہیں آئی

    کہ تیری یاد ہمیں رات بھی نہیں آئی

    بچھڑتے وقت جو گرجے وہ کیسے بادل تھے

    یہ کیسا ہجر کہ برسات بھی نہیں آئی

    تجھے نہ پا سکے ہم اس کا اک سبب یہ ہے

    پلٹ کے گردش حالات بھی نہیں آئی

    ہوا یوں ہاتھ سے بازی نکل گئی اک روز

    ہمارے حصے میں پھر مات بھی نہیں آئی

    الجھ کے رہ گئے کیا ہم بھی کار دنیا میں

    کہ نوبت سفر ذات بھی نہیں آئی

    مآخذ:

    • کتاب : Na Mau'ud (Pg. 174)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY