ہماری آنکھ میں ٹھہرا ہوا سمندر تھا

آزاد گلاٹی

ہماری آنکھ میں ٹھہرا ہوا سمندر تھا

آزاد گلاٹی

MORE BYآزاد گلاٹی

    ہماری آنکھ میں ٹھہرا ہوا سمندر تھا

    مگر وہ کیا تھا جو صحرائے دل کے اندر تھا

    اسی کو زلف میں ٹانکے یہ آرزو کیوں کر

    وہ پھول جو کہ تری دسترس سے باہر تھا

    وہ وقت آئے گا جب خود تمہی یہ سوچو گی

    ملا نہ ہوتا اگر تجھ سے میں تو بہتر تھا

    ہر ایک انگ لبالب بھرا ہو جیسے جام

    تمہارا جسم تھا یا مے کدے کا منظر تھا

    اسے بھی جاتے ہوئے تم نے مجھ سے چھین لیا

    تمہارا غم تو مری آرزو کا زیور تھا

    بہت قریب سے دیکھا تھا اس کو اے آزادؔ

    وہ آرزو کا مری اک حسین پیکر تھا

    مآخذ
    • کتاب : Dasht-e-Sada (Pg. 126)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY