ہماری کیف سزاوار احتساب نہیں

امام بخش ناسخ

ہماری کیف سزاوار احتساب نہیں

امام بخش ناسخ

MORE BYامام بخش ناسخ

    ہماری کیف سزاوار احتساب نہیں

    خیال چشم ہے کچھ ساغر شراب نہیں

    وہ بے نقاب ہوا ہے تو یہ تماشا ہے

    دو چار ہونے کی آنکھوں میں اپنی تاب نہیں

    یہ مجھ کو اس کے تغافل سے ہے یقین کہ ہائے

    جواب نامے سو اے نامے کا جواب نہیں

    سما رہا ہے یہاں تک پری رخوں کا جمال

    ہماری آنکھوں میں خالی مقام خواب نہیں

    بتوں کے پردے میں ہم دیکھتے ہیں نور خدا

    خدا کے دیکھنے کی اے کلیم تاب نہیں

    وفور اشک سے کیوں ہے گلے تلک پانی

    ہمارا کاسۂ سر کاسۂ حباب نہیں

    میں بزم شاہد و ساقی میں کیوں نہ وجد کروں

    برائے زہد و ورع عالم شباب نہیں

    کیا ہے داغ نے کیوں اس کو منزل خورشید

    ہمارا دل ہے یہ کچھ برج آفتاب نہیں

    ہوا ہے مانع دیدار یار پردۂ چشم

    کھلی جو آنکھ تو کچھ درمیاں حجاب نہیں

    یہ ضبط گریہ میں عالم ہے بے قراری کا

    کہ برق کوندتی ہے بارش سحاب نہیں

    بشر کے جسم میں ہے جان مایۂ غفلت

    سو اے دیدۂ تصویر کس کو خواب نہیں

    دلا ہے موسم پیری محل جام شراب

    بغیر صبح کوئی وقت آفتاب نہیں

    میں غش سے اس کے چھڑکتے ہی ہوشیار ہوا

    کسی صنم کا پسینہ ہے یہ گلاب نہیں

    بہت فریب سے ہم وحشیوں کو وحشت ہے

    ہمارے دشت میں ناسخؔ کہیں سراب نہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY