ہماری روح جو تیری گلی میں آئی ہے

منیرؔ  شکوہ آبادی

ہماری روح جو تیری گلی میں آئی ہے

منیرؔ  شکوہ آبادی

MORE BYمنیرؔ  شکوہ آبادی

    ہماری روح جو تیری گلی میں آئی ہے

    اجل کے صدقے میں یہ راہ دیکھ پائی ہے

    وہاں پہنچ نہیں سکتیں تمہاری زلفیں بھی

    ہمارے دست طلب کی جہاں رسائی ہے

    لہو مرا تری تلوار سے ملا ایسا

    کہ ناگوار پس ذبح بھی جدائی ہے

    نہ پوچھئے کہ تو جلتا ہے کیوں رقیبوں سے

    وہی یہ آگ ہے جو آپ نے لگائی ہے

    نثار حضرت آغا علی حسنؔ خاں ہوں

    زیادہ حد سے مری آبرو بڑھائی ہے

    مآخذ:

    • کتاب : Intekhab-e-Kalam Muneer Shikohabadi (Pg. 81)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY