ہماری طرح کوئی دوسرا ہوا بھی نہیں

پیرزادہ قاسم

ہماری طرح کوئی دوسرا ہوا بھی نہیں

پیرزادہ قاسم

MORE BYپیرزادہ قاسم

    ہماری طرح کوئی دوسرا ہوا بھی نہیں

    وہ درد دل میں رکھا ہے جو لا دوا بھی نہیں

    ہمارا درد عجب مرحلے میں ہے کہ جہاں

    وہ بے سخن بھی نہیں اور لب کشا بھی نہیں

    اسی کو دیکھتی رہتی ہے چشم شوق مدام

    جو غم ابھی سر شاخ الم کھلا بھی نہیں

    عجیب طرح سے روشن ہوئی ہے خلوت غم

    کہ روشنی ہے بہت اور دیا جلا بھی نہیں

    یہ دشت شوق بہت عافیت گزیدہ ہے

    کہ اب یہاں پہ تو امکان نقش پا بھی نہیں

    گزر ہے کیسی فضاؤں سے آج طائر عشق

    کہ زیر بازوئے پرواز اب خلا بھی نہیں

    میں ایسے شخص کو زندوں میں کیا شمار کروں

    جو سوچتا بھی نہیں خواب دیکھتا بھی نہیں

    یہ عشق خاک ہی ہونے کا نام تھا سو ہمیں

    صلہ ملا بھی بہت اور صلہ ملا بھی نہیں

    یہ عصر نو کی چتاؤں میں آگ کیسی ہے

    کہ روح راکھ ہوئی اور بدن جلا بھی نہیں

    تمام عمر عجب وضع داریوں میں کٹی

    اسے عزیز رکھا جو ہمارا تھا بھی نہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY