ہمدمو کیا مجھ کو تم ان سے ملا سکتے نہیں

رنگیں سعادت یار خاں

ہمدمو کیا مجھ کو تم ان سے ملا سکتے نہیں

رنگیں سعادت یار خاں

MORE BYرنگیں سعادت یار خاں

    ہمدمو کیا مجھ کو تم ان سے ملا سکتے نہیں

    میں تو جا سکتا ہوں واں گر یاں وہ آ سکتے نہیں

    شرم ہے ان کو بہت ہر دم چمٹنے سے مرے

    وہ تڑپتے ہیں ولیکن غل مچا سکتے نہیں

    ہاتھ میں ہے ہاتھ اور کوئی نہیں ہے آس پاس

    وہ تو ہیں قابو میں پر ہم جی چلا سکتے نہیں

    چودھویں ہے رات اور چھٹکی ہوئی ہے چاندنی

    ہم کمند اب ان کے کوٹھے پر لگا سکتے نہیں

    کیوں میاں رنگیںؔ بھلا اب اس زمیں میں سوچ سے

    کیا غزل تم حسب حال اپنی سنا سکتے نہیں

    بس میں ہیں وہ غیر کے ہم کو بلا سکتے نہیں

    اور ہم اس جا کسی صورت سے جا سکتے نہیں

    ہم کو ان سے ان کو ہم سے جتنی الفت ہے اسے

    وہ گھٹا سکتے ہیں لیکن ہم گھٹا سکتے نہیں

    غیر سے ہم کو دلاتے ہیں وہ لاکھوں گالیاں

    پچھلی باتیں یاد ہم ان کو دلا سکتے نہیں

    بت بنے ہیں یوں تو ہم باتیں بناتے ہیں ہزار

    بات لیکن وصل کی اصلاً بتا سکتے نہیں

    مآخذ :
    • کتاب : intekhaab-e-sukhan(avval) (Pg. 70)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY