ہمیں لپکتی ہوا پر سوار لے آئی

راجیندر منچندا بانی

ہمیں لپکتی ہوا پر سوار لے آئی

راجیندر منچندا بانی

MORE BYراجیندر منچندا بانی

    ہمیں لپکتی ہوا پر سوار لے آئی

    کوئی تو موج تھی دریا کے پار لے آئی

    وہ لوگ جو کبھی باہر نہ گھر سے جھانکتے تھے

    یہ شب انہیں بھی سر رہ گزار لے آئی

    افق سے تا بہ افق پھیلتی بکھرتی گھٹا

    گئی رتوں کا چمکتا غبار لے آئی

    متاع وعدہ سنبھالے رہو کہ آج بھی شام

    وہاں سے ایک نیا انتظار لے آئی

    اداس شام کی یادوں بھری سلگتی ہوا

    ہمیں پھر آج پرانے دیار لے آئی

    نہ شب سے دیکھی گئی برگ آخری کی تھکن

    کہ بوند اوس سے اس کو اتار لے آئی

    میں دیکھتا تھا شفق کی طرف مگر تتلی

    پروں پہ رکھ کے عجب رنگ زار لے آئی

    بہت دنوں سے نہ سوئے تھے ہم اور آج ہوا

    کہیں سے نیند کی خوشبو ادھار لے آئی

    وہ اک ادا کہ نہ پہچان پائے ہم بانیؔ

    ذرا سی بات تھی آفت ہزار لے آئی

    مأخذ :
    • کتاب : Kulliyat-e-bani (Pg. 191)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY