ہمیں تک رہ گیا قصہ ہمارا

شارق کیفی

ہمیں تک رہ گیا قصہ ہمارا

شارق کیفی

MORE BYشارق کیفی

    ہمیں تک رہ گیا قصہ ہمارا

    کسی نے خط نہیں کھولا ہمارا

    پڑھائی چل رہی ہے زندگی کی

    ابھی اترا نہیں بستہ ہمارا

    معافی اور اتنی سی خطا پر

    سزا سے کام چل جاتا ہمارا

    کسی کو پھر بھی مہنگے لگ رہے تھے

    فقط سانسوں کا خرچہ تھا ہمارا

    یہیں تک اس شکایت کو نہ سمجھو

    خدا تک جائے گا جھگڑا ہمارا

    طرف داری نہیں کر پائے دل کی

    اکیلا پڑ گیا بندہ ہمارا

    تعارف کیا کرا آئے کسی سے

    اسی کے ساتھ ہے سایہ ہمارا

    نہیں تھے جشن یاد یار میں ہم

    سو گھر پر آ گیا حصہ ہمارا

    ہمیں بھی چاہیے تنہائی شارقؔ

    سمجھتا ہی نہیں سایہ ہمارا

    مأخذ :
    • کتاب : Khidki to maine khol hi li (Pg. 115)
    • Author : Shariq Kaifi
    • مطبع : Rekhta Books (2018)
    • اشاعت : 2018

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے